Skip to content

سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو

سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو
تو اے بت کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہو

غنچے کے چٹکنے پہ نہ گلشن میں خفا ہو
ممکن ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہو

کھا اس کی قسم جو نہ تجھے دیکھ چکا ہو
تیرے تو فرشتوں سے بھی وعدہ نہ وفا ہو

انساں کسی فطرت پہ تو قائم ہو کم از کم
اچھا ہو تو اچھا ہو برا ہو تو برا ہو

اس حشر میں کچھ داد نہ فریاد کسی کی
جو حشر کہ ظالم ترے کوچے سے اٹھا ہو

اترا کے یہ رفتار جوانی نہیں اچھی
چال ایسی چلا کرتے ہیں جیسی کہ ہوا ہو

مے خانے میں جب ہم سے فقیروں کو نہ پوچھا
یہ کہتے ہوئے چل دیئے ساقی کا بھلا ہو

اللہ رے او دشمن اظہار محبت
وہ درد دیا ہے جو کسی سے نہ دوا ہو

تنہا وہ مری قبر پہ ہیں چاک گریباں
جیسے کسی صحرا میں کوئی پھول کھلا ہو

منصور سے کہتی ہے یہی دار محبت
اس کی یہ سزا ہے جو گنہ گار وفا ہو

جب لطف ہو اللہ ستم والوں سے پوچھے
تو یاس کی نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہو

فرماتے ہیں وہ سن کے شب غم کی شکایت
کس نے یہ کہا تھا کہ قمرؔ تم ہمیں چاہو