Skip to content

مرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کچھ سنا دینا

مرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کچھ سنا دینا
زباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا

نشیمن ہو نہ ہو یہ تو فلک کا مشغلہ ٹھہرا
کہ دو تنکے جہاں پر دیکھنا بجلی گرا دینا

میں اس حالت سے پہنچا حشر والے خود پکار اٹھے
کوئی فریاد والا آ رہا ہے راستہ دینا

اجازت ہو تو کہہ دوں قصۂ الفت سر محفل
مجھے کچھ تو فسانہ یاد ہے کچھ تم سنا دینا

میں مجرم ہوں مجھے اقرار ہے جرم محبت کا
مگر پہلے تو خط پر غور کر لو پھر سزا دینا

ہٹا کر رخ سے گیسو صبح کر دینا تو ممکن ہے
مگر سرکار کے بس میں نہیں تارے چھپا دینا

یہ تہذیب چمن بدلی ہے بیرونی ہواؤں نے
گریباں چاک پھولوں پر کلی کا مسکرا دینا

قمرؔ وہ سب سے چھپ کر آ رہے ہیں فاتحہ پڑھنے
کہوں کس سے کہ میری شمع تربت کو بجھا دینا