Skip to content

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

کہنے کو دل کی بات جنہیں ڈھونڈتے تھے ہم
محفل میں آ گئے ہیں وہ اپنے نصیب سے

نیلام ہو رہا تھا کسی نازنیں کا پیار
قیمت نہیں چکائی گئی اک غریب سے

تیری وفا کی لاش پہ لا میں ہی ڈال دوں
ریشم کا یہ کفن جو ملا ہے رقیب سے