Skip to content

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

اے روح عصر جاگ کہاں سو رہی ہے تو
آواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب سے

اس رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں بار
بیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے

ہر گام پر ہے مجمع عشاق منتظر
مقتل کی راہ ملتی ہے کوئے حبیب سے

اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ
جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے