Skip to content

رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہے

رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہے
سوتے نہیں ہم ذمہ داری رہتی ہے

جب سے تو نے ہلکی ہلکی باتیں کیں
یار طبیعت بھاری بھاری رہتی ہے

پاؤں کمر تک دھنس جاتے ہیں دھرتی میں
ہاتھ پسارے جب خودداری رہتی ہے

وہ منزل پر اکثر دیر سے پہنچے ہیں
جن لوگوں کے پاس سواری رہتی ہے

چھت سے اس کی دھوپ کے نیزے آتے ہیں
جب آنگن میں چھاؤں ہماری رہتی ہے

گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیا
گھر کے اندر دنیا داری رہتی ہے