Skip to content

وہ اک اک بات پہ رونے لگا تھا

وہ اک اک بات پہ رونے لگا تھا
سمندر آبرو کھونے لگا تھا

لگے رہتے تھے سب دروازے پھر بھی
میں آنکھیں کھول کر سونے لگا تھا

چراتا ہوں اب آنکھیں آئنوں سے
خدا کا سامنا ہونے لگا تھا

وہ اب آئینے دھوتا پھر رہا ہے
اسے چہرے پہ شک ہونے لگا تھا

مجھے اب دیکھ کر ہنستی ہے دنیا
میں سب کے سامنے رونے لگا تھا