Skip to content

اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں

اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں
میں چاہتا تھا چراغوں کو آفتاب کروں

مجھے بتوں سے اجازت اگر کبھی مل جائے
تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں

اس آدمی کو بس اک دھن سوار رہتی ہے
بہت حسین ہے دنیا اسے خراب کروں

ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے بحروں کی
کسے خطیب بناؤں کسے خطاب کروں

میں کروٹوں کے نئے ذائقے لکھوں شب بھر
یہ عشق ہے تو کہاں زندگی عذاب کروں

یہ زندگی جو مجھے قرض دار کرتی رہی
کہیں اکیلے میں مل جائے تو حساب کروں