Skip to content

بلاتی ہے مگر جانے کا نئیں

بلاتی ہے مگر جانے کا نئیں
وہ دنیا ہے ادھر جانے کا نئیں

زمیں رکھنا پڑے سر پر تو رکھو
چلو ہو تو ٹھہر جانے کا نئیں

ہے دنیا چھوڑنا منظور لیکن
وطن کو چھوڑ کر جانے کا نئیں

جنازے ہی جنازے ہیں سڑک پر
ابھی ماحول مر جانے کا نئیں

ستارے نوچ کر لے جاؤں گا
میں خالی ہاتھ گھر جانے کا نئیں

مرے بیٹے کسی سے عشق کر
مگر حد سے گزر جانے کا نئیں

وہ گردن ناپتا ہے ناپ لے
مگر ظالم سے ڈر جانے کا نئیں

سڑک پر ارتھیاں ہی ارتھیاں ہیں
ابھی ماحول مر جانے کا نئیں

وبا پھیلی ہوئی ہے ہر طرف
ابھی ماحول مر جانے کا نئیں