Skip to content

کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہو

کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہو
یہ سب تمہارے ہی گھر ہیں کسی بھی گھر میں رہو

جلا نہ لو کہیں ہمدردیوں میں اپنا وجود
گلی میں آگ لگی ہو تو اپنے گھر میں رہو

تمہیں پتہ یہ چلے گھر کی راحتیں کیا ہیں
ہماری طرح اگر چار دن سفر میں رہو

ہے اب یہ حال کہ در در بھٹکتے پھرتے ہیں
غموں سے میں نے کہا تھا کہ میرے گھر میں رہو

کسی کو زخم دیے ہیں کسی کو پھول دیے
بری ہو چاہے بھلی ہو مگر خبر میں رہو