Skip to content

کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں

کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں
اور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیں

آپ کی نظروں میں سورج کی ہے جتنی عظمت
ہم چراغوں کا بھی اتنا ہی ادب کرتے ہیں

ہم پہ حاکم کا کوئی حکم نہیں چلتا ہے
ہم قلندر ہیں شہنشاہ لقب کرتے ہیں

دیکھیے جس کو اسے دھن ہے مسیحائی کی
آج کل شہر کے بیمار مطب کرتے ہیں

خود کو پتھر سا بنا رکھا ہے کچھ لوگوں نے
بول سکتے ہیں مگر بات ہی کب کرتے ہیں

ایک اک پل کو کتابوں کی طرح پڑھنے لگے
عمر بھر جو نہ کیا ہم نے وہ اب کرتے ہیں