Skip to content

دوستی جب کسی سے کی جائے

دوستی جب کسی سے کی جائے
دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

موت کا زہر ہے فضاؤں میں
اب کہاں جا کے سانس لی جائے

بس اسی سوچ میں ہوں ڈوبا ہوا
یہ ندی کیسے پار کی جائے

اگلے وقتوں کے زخم بھرنے لگے
آج پھر کوئی بھول کی جائے

لفظ دھرتی پہ سر پٹکتے ہیں
گنبدوں میں صدا نہ دی جائے

کہہ دو اس عہد کے بزرگوں سے
زندگی کی دعا نہ دی جائے

بوتلیں کھول کے تو پی برسوں
آج دل کھول کر ہی پی جائے