Skip to content

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئے

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئے
اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہئے

شہر کی ساری الف لیلائیں بوڑھی ہو چکیں
شاہزادے کو کوئی تازہ کہانی چاہئے

میں نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے
میرے حصے میں بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہئے

میری قیمت کون دے سکتا ہے اس بازار میں
تم زلیخا ہو تمہیں قیمت لگانی چاہئے

زندگی ہے اک سفر اور زندگی کی راہ میں
زندگی بھی آئے تو ٹھوکر لگانی چاہئے

میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا
اک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے