Skip to content

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے
میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیے

اللہ برکتوں سے نوازے گا عشق میں
ہے جتنی پونجی پاس لگا دینی چاہیے

دل بھی کسی فقیر کے حجرے سے کم نہیں
دنیا یہیں پہ لا کے چھپا دینی چاہیے

میں خود بھی کرنا چاہتا ہوں اپنا سامنا
تجھ کو بھی اب نقاب اٹھا دینی چاہیے

میں پھول ہوں تو پھول کو گلدان ہو نصیب
میں آگ ہوں تو آگ بجھا دینی چاہیے

میں تاج ہوں تو تاج کو سر پر سجائیں لوگ
میں خاک ہوں تو خاک اڑا دینی چاہیے

میں جبر ہوں تو جبر کی تائید بند ہو
میں صبر ہوں تو مجھ کو دعا دینی چاہیے

میں خواب ہوں تو خواب سے چونکایئے مجھے
میں نیند ہوں تو نیند اڑا دینی چاہیے

سچ بات کون ہے جو سر عام کہہ سکے
میں کہہ رہا ہوں مجھ کو سزا دینی چاہیے