Skip to content

لبوں کی اُترن

مجھے ضرورت تھی
کچھ حوالوں کی اور
میں نے
پھر اپنے دل کے اداس آنگن
کے بند کمرے کی کھڑکی کھولی
تو میری آنکھوں کی نیلگوں
دھاریوں میں لپٹے
نجانے کتنے سہانے منظر
جو گزرے لمحوں
کی بھینی بھینی مہک
کو اوڑھے ہوئے تھے اب تک
وہ سب اچانک
سنہری یادوں کا روپ دھارے
مری نگاہوں
کے کینوس پر چمک اُٹھے ہیں
انہی حوالوں
کی گرد آلود
ملگجی سی کتابِ دل میں
کہیں رقم تھا
تری محبت،تری وفاؤں کا بھی فسانہ
وہ مشک و عنبر کو خیرہ کرتے
مجھے

زمانے کے کارزارِ نحیف میں
ایک حوصلہ اور روشنی کا لبادہ بن کر
مرے بدن کو سہارا دیتے
تمام حرفِ دعا تمہارے
ابھی بھی شمس و قمر کی مانند
میرے دل کے اداس آنگن
کو یوں منور کیے ہوئے ہیں
کہ آج بھی میں تمہارے لہجے
تمہاری باتوں کی چاشنی کے سحر سے اکثر
نکل نہ پایا
اسی فسانے میں
اک جگہ وہ بھی ہے جہاں پر
تمہارے ہونٹوں نے
میری چاہت کو راحت و اعتبار بخشا تھا
اور منزل ملی تھی دل کو
مجھے عطا کی تھی
عفت و رفعتِ زمانہ
زمانے بیتے
مگر تمہارے
لبوں کی اُترن
ابھی بھی دل کے نحیف آنگن میں
رات کی رانی
بن کے جاناں
مہک رہی ہے، لہک رہی ہے