Skip to content

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے
شام کے وقت سفر کیا کرتے

تیری مصروفیتیں جانتے ہیں
اپنے آنے کی خبر کیا کرتے

جب ستارے ہی نہیں مل پائے
لے کے ہم شمس و قمر کیا کرتے

وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا
سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے

خاک ہی اول و آخر ٹھہری
کر کے ذرے کو گہر کیا کرتے

رائے پہلے سے بنا لی تو نے
دل میں اب ہم ترے گھر کیا کرتے

عشق نے سارے سلیقے بخشے
حسن سے کسب ہنر کیا کرتے