Skip to content

اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے

اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے
زمیں کی خیر مانگیں آسماں سے

اگر چاہیں تو وہ دیوار کر دیں
ہمیں اب کچھ نہیں کہنا زباں سے

ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا
تو کشتی کام لے کیا بادباں سے

بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں
پتا منزل کا میر کارواں سے

توجہ برق کی حاصل رہی ہے
سو ہے آزاد فکر آشیاں سے

ہوا کو رازداں ہم نے بنایا
اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے

ضروری ہو گئی ہے دل کی زینت
مکیں پہچانے جاتے ہیں مکاں سے

فنا فی العشق ہونا چاہتے تھے
مگر فرصت نہ تھی کار جہاں سے

وگرنہ فصل گل کی قدر کیا تھی
بڑی حکمت ہے وابستہ خزاں سے

کسی نے بات کی تھی ہنس کے شاید
زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے

میں اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی
اگر ہوتا وہ دشمن کی کماں سے

جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں
انہیں تکلیف کیوں پہنچے خزاں سے

جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں
انہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے