Skip to content

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
اب سفر کا استعارہ اور ہے

ایک مٹھی ریت میں کیسے رہے
اس سمندر کا کنارہ اور ہے

موج کے مڑنے میں کتنی دیر ہے
ناؤ ڈالی اور دھارا اور ہے

جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا
تیر سینے میں اتارا اور ہے

متن میں تو جرم ثابت ہے مگر
حاشیہ سارے کا سارا اور ہے

ساتھ تو میرا زمیں دیتی مگر
آسماں کا ہی اشارہ اور ہے

دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گی
تیز بارش کا سہارا اور ہے

ہارنے میں اک انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارا اور ہے

سکھ کے موسم انگلیوں پر گن لیے
فصل غم کا گوشوارہ اور ہے

دیر سے پلکیں نہیں جھپکیں مری
پیش جاں اب کے نظارہ اور ہے

اور کچھ پل اس کا رستہ دیکھ لوں
آسماں پر ایک تارہ اور ہے

حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہے
آج سے رستہ ہمارا اور ہے