Skip to content

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر
شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے

ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو
تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

آج آیا ہے ہمیں بھی ان اڑانوں کا خیال
جن کو تیرے زعم میں بے بال و پر کرتے رہے