Skip to content

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے

تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
مرا تن مور بن کر ناچتا ہے

مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے

میں اس کی دسترس میں ہوں مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے

کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل
بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے

سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا
کہ میرے گھر کا کچا راستہ ہے