Skip to content

ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں

ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں

شمع رو آپ گو ہوئے لیکن
لطفِ سوز و گداز کیا جانیں

کب کسی در کی جبہہ سائی کی
شیخ صاحب نماز کیا جانیں

جو رہِ عشق میں قدم رکھیں
وہ نشیب و فراز کیا جانیں

پوچھیے مے کشوں سے لطفِ شراب
یہ مزہ پاکباز کیا جانیں

جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں

حضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں
لطفِ عمرِ دراز کیا جانیں

جو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں