Skip to content

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے

عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم
یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے

سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل
مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

کسے ڈھونڈوگے ان گلیوں میں ناصرؔ
چلو اب گھر چلیں دن جا رہا ہے