Skip to content

رات سنسان ہے

میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموش
اپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے
میرا کمرہ جو مرے دل کی ہر اک دھڑکن کو
سالہا سال سے چپ چاپ گنے جاتا ہے
جہد ہستی کی کڑی دھوپ میں تھک جانے پر
جس کی آغوش نے بخشا ہے مجھے ماں کا خلوص
جس کی خاموش عنایت کی سہانی یادیں
لوریاں بن کے مرے دل میں سما جاتی ہیں
میری تنہائی کے احساس کو زائل کرنے
جس کی دیواریں مرے پاس چلی آتی ہیں

سامنے طاق پہ رکھی ہوئی دو تصویریں
اکثر اوقات مجھے پیار سے یوں تکتی ہیں
جیسے میں دور کسی دیس کا شہزادہ ہوں
میرا کمرہ مرے ماضی کا حقیقی مونس
آج ہر فکر ہر احساس سے بیگانہ ہے
اپنے ہم راز کواڑوں کے احاطے کے عوض
آج میں جیسے مزاروں پہ چلا آیا ہوں
گرد آلودہ کلنڈر پہ اجنتا کے نقوش
میرے چہرے کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیں
جیسے اک لاش کی پھیلی ہوئی بے بس آنکھیں
اپنے مجبور عزیزوں کو تکا کرتی ہیں

یہ کتابیں بھی مرا ساتھ نہیں دیتیں آج
کیٹسؔ کی نظم ارسطوؔ کے حکیمانہ قول
سنگ مرمر کی عمارت کی طرح ساکت ہیں
تو ہی کچھ بات کر اے میرے دھڑکتے ہوئے دل
تو ہی اک میرا سہارا ہے مرا مونس ہے
تو ہی اس سرد اندھیرے میں چراغاں کر دے
لکشمی دیوی تو مری بات نہیں سن سکتیں
مجھ کو معلوم ہے کیا بیت چکی ہے تجھ پر
میرے چہرے کے سلگتے ہوئے زخموں کو بھی دیکھ
میری آنکھوں پہ مری فکر پہ پابندی ہے
میں اسے چاہوں بھی تو یاد نہیں کر سکتا
تو اسے کھو کے مچل سکتا ہے رو سکتا ہے
اور میں لٹ کے بھی فریاد نہیں کر سکتا

اسی آئینے نے دیکھے ہیں ہمارے جھگڑے
یہی زینہ ہے جہاں میں نے اسے چوما تھا
ان قمیضوں میں ان الجھے ہوئے رومالوں میں
اس کے بالوں کی مہک آج بھی آسودہ ہے
جو کبھی میری تھی انکار پہ بھی میری تھی
اب فقط بزم تصور میں نظر آتی ہے
رات بھر جاگ کے لکھی ہوئی تحریروں سے
اب بھی ان آنکھوں کی تصویر ابھر آتی ہے

چاندنی کھل کے نکھر آئی ہے دروازے پر
اوس سے بھیگتے جاتے ہیں پرانے گملے
کس قدر نرم ہے کلیوں کا سہانا سایہ
جیسے وہ ہونٹ جنہیں پا کے بھی میں پا نہ سکا
اے تڑپتے ہوئے دل اور سنبھل اور سنبھل
یہ تری چاپ سے جاگ اٹھیں گی تو کیا ہوگا

صبح کیا جانے کہاں ہوتی ہے کب ہوتی ہے
جانے انسان نے کس وقت یہ نعمت پائی
میری قسمت میں بس اک سلسلۂ شام و سحر
میرے کمرے کے مقدر میں فقط تنہائی