Skip to content

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

چشم دل کھول اس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے

نقطۂ خال سے ترا ابرو
بیت اک انتخاب کی سی ہے

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے

آتش غم میں دل بھنا شاید
دیر سے بو کباب کی سی ہے

دیکھیے ابر کی طرح اب کے
میری چشم پر آب کی سی ہے

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے