Skip to content

چلو باد بہاری جا رہی ہے

چلو باد بہاری جا رہی ہے
پیا جی کی سواری جا رہی ہے

شمال جاودان سبز جاں سے
تمنا کی عماری جا رہی ہے

فغاں اے دشمن دار دل و جاں
مری حالت سدھاری جا رہی ہے

ہے پہلو میں ٹکے کی اک حسینہ
تری فرقت گزاری جا رہی ہے

جو ان روزوں مرا غم ہے وہ یہ ہے
کہ غم سے بردباری جا رہی ہے

ہے سینے میں عجب اک حشر برپا
کہ دل سے بے قراری جا رہی ہے

میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہوں
وہ کیا شے ہے جو ہاری جا رہی ہے

دل اس کے رو بہ رو ہے اور گم صم
کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے

وہ سید بچہ ہو اور شیخ کے ساتھ
میاں عزت ہماری جا رہی ہے

ہے برپا ہر گلی میں شور نغمہ
مری فریاد ماری جا رہی ہے

وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رخصت
میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے

دریغا تیری نزدیکی میاں جان
تری دوری پہ واری جا رہی ہے

بہت بد حال ہیں بستی ترے لوگ
تو پھر تو کیوں سنواری جا رہی ہے

تری مرہم نگاہی اے مسیحا
خراش دل پہ واری جا رہی ہے

خرابے میں عجب تھا شور برپا
دلوں سے انتظاری جا رہی ہے