Skip to content

جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی

جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی

چاند نے تان لی ہے چادر ابر
اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی

سو گئی ہوگی وہ شفق اندام
سبز قندیل جل رہی ہوگی

سرخ اور سبز وادیوں کی طرف
وہ مرے ساتھ چل رہی ہوگی

چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رہی ہوگی

پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر
وہ تنے سے پھسل رہی ہوگی

نیلگوں جھیل ناف تک پہنے
صندلیں جسم مل رہی ہوگی

ہو کے وہ خواب عیش سے بیدار
کتنی ہی دیر شل رہی ہوگی