Skip to content

آپ اپنا غبار تھے ہم تو

آپ اپنا غبار تھے ہم تو
یاد تھے یادگار تھے ہم تو

پردگی ہم سے کیوں رکھا پردہ
تیرے ہی پردہ دار تھے ہم تو

وقت کی دھوپ میں تمہارے لیے
شجر سایہ دار تھے ہم تو

اڑے جاتے ہیں دھول کے مانند
آندھیوں پر سوار تھے ہم تو

ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا
سخت بے اعتبار تھے ہم تو

شرم ہے اپنی بار باری کی
بے سبب بار بار تھے ہم تو

کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور
خود ہی بے اختیار تھے ہم تو

تم نے کیسے بھلا دیا ہم کو
تم سے ہی مستعار تھے ہم تو

خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو

سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کو
جان من جاں نثار تھے ہم تو

خود کو دوران حال میں اپنے
بے طرح ناگوار تھے ہم تو

تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد
نادر روزگار تھے ہم تو

ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو