Skip to content

آخری بار آہ کر لی ہے

آخری بار آہ کر لی ہے
میں نے خود سے نباہ کر لی ہے

اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے

دن بھلا کس طرح گزارو گے
وصل کی شب بھی اب گزر لی ہے

جاں نثاروں پہ وار کیا کرنا
میں نے بس ہاتھ میں سپر لی ہے

جو بھی مانگو ادھار دوں گا میں
اس گلی میں دکان کر لی ہے

میرا کشکول کب سے خالی تھا
میں نے اس میں شراب بھر لی ہے

اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حالت تباہ کر لی ہے

شیخ آیا تھا محتسب کو لیے
میں نے بھی ان کی وہ خبر لی ہے