Skip to content

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے

رنگ موسم ہے اور باد صبا
شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے

فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں
میز پر گرد جمتی جاتی ہے

سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے

میں بھی اذن نوا گری چاہوں
بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے

سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو
زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے

اس سراپا وفا کی فرقت میں
خواہش غیر کیوں ستاتی ہے

آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
ہم نشیں سانس پھول جاتی ہے

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے