Skip to content

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا

یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں
مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا

بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو تو سوچتی ہو کیا

اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

کیا کہا عشق جاودانی ہے!
آخری بار مل رہی ہو کیا

ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہے
تو بہت تیز روشنی ہو کیا

میرے سب طنز بے اثر ہی رہے
تم بہت دور جا چکی ہو کیا

دل میں اب سوز انتظار نہیں
شمع امید بجھ گئی ہو کیا

اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میں
بان تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا