Skip to content

اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

اپنے سب یار کام کر رہے ہیں
اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں

تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ
آپ تو قتل عام کر رہے ہیں

داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں
ہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں

ہم ہیں مصروف انتظام مگر
جانے کیا انتظام کر رہے ہیں

ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم
ہر کسی کو سلام کر رہے ہیں

ایک قتالہ چاہیے ہم کو
ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں

کیا بھلا ساغر سفال کہ ہم
ناف پیالے کو جام کر رہے ہیں

ہم تو آئے تھے عرض مطلب کو
اور وہ احترام کر رہے ہیں

نہ اٹھے آہ کا دھواں بھی کہ وہ
کوئے دل میں خرام کر رہے ہیں

اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے
بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں

ہم عجب ہیں کہ اس کے کوچے میں
بے سبب دھوم دھام کر رہے ہیں