Skip to content

ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ

ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ
ہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہ

سو رمز کی کرتا ہے اشارے میں وہ باتیں
ہے لطف خموشی میں تکلم سے زیادہ

جز صبر دلا چارہ نہیں عشق بتاں میں
کرتے ہیں یہ ظلم اور تظلم سے زیادہ

مے خانے میں سو مرتبہ میں مر کے جیا ہوں
ہے قلقل مینا مجھے قم قم سے زیادہ

سو رقص سے افزوں ہے پری رو تری رفتار
پاؤں کی صدا لاکھ ترنم سے زیادہ

تکلیف تکلف سے کیا عشق نے آزاد
موئے سر شوریدہ ہیں قاقم سے زیادہ

معشوقوں سے امید وفا رکھتے ہو ناسخؔ
ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ