Skip to content

یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا

یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا
باوجود حسن تو آگاہ رعنائی نہ تھا

عشق روزافزوں پہ اپنے مجھ کو حیرانی نہ تھی
جلوۂ رنگیں پہ تجھ کو ناز یکتائی نہ تھا

دید کے قابل تھی میرے عشق کی بھی سادگی
جبکہ تیرا حسن سرگرم خود آرائی نہ تھا

کیا ہوئے وہ دن کہ محو آرزو تھے حسن و عشق
ربط تھا دونوں میں گو ربط شناسائی نہ تھا

تو نے حسرتؔ کی عیاں تہذیب رسم عاشقی
اس سے پہلے اعتبار شان رسوائی نہ تھا