Skip to content

ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر

ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر
اے دل اتنا بھی اضطراب نہ کر

آمد یار کی امید نہ چھوڑ
دیکھ اے آنکھ میل خواب نہ کر

مل ہی رہتی ہے مے پرست کو مے
فکر نایابئ شراب نہ کر

ناصحا ہم کریں گے شرح جنوں
دل دیوانہ سے خطاب نہ کر

شوق یاروں کا بے شمار نہیں
ستم اے دوست بے حساب نہ کر

دل کو مست خیال یار بنا
لب کو آلودۂ شراب نہ کر

رکھ بہرحال شغل مے حسرتؔ
اس میں پروائے شیخ و شاب نہ کر