Skip to content

گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہ

گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہ
بڑھے گا عاشقی کا اعتبار آہستہ آہستہ

بہت نادم ہوئے آخر وہ میرے قتل ناحق پر
ہوئی قدر وفا جب آشکار آہستہ آہستہ

جلائے شوق سے آئینہ تصویر خاطر میں
نمایاں ہو چلا روئے نگار آہستہ آہستہ

محبت کی جو پھیلی ہے یہ نکہت باغ عالم میں
ہوئی ہے منتشر خوشبوئے یار آہستہ آہستہ

دل و جان و جگر صبر و خرد جو کچھ ہے پاس اپنے
یہ سب کر دیں گے ہم ان پر نثار آہستہ آہستہ

عجب کچھ حال ہو جاتا ہے اپنا بے قراری سے
بجاتے ہیں کبھی جب وہ ستار آہستہ آہستہ

اثر کچھ کچھ رہے گا وصل میں بھی رنج فرقت کا
دل مضطر کو آئے گا قرار آہستہ آہستہ

نہ آئیں گے وہ حسرتؔ انتظار شوق میں یوں ہی
گزر جائیں گے ایام بہار آہستہ آہستہ