Skip to content

ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے

ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے
وہ راحت مصیبت ہے راحت نہیں ہے

جنون محبت کا دیوانہ ہوں میں
مرے سر میں سودائے حکمت نہیں ہے

ترے غم کی دنیا میں اے جان عالم
کوئی روح محروم راحت نہیں ہے

مجھے گرم نظارہ دیکھا تو ہنس کر
وہ بولے کہ اس کی اجازت نہیں ہے

جھکی ہے ترے بار عرفاں سے گردن
ہمیں سر اٹھانے کی فرصت نہیں ہے

یہ ہے ان کے اک روئے رنگیں کا پرتو
بہار طلسم لطافت نہیں ہے

ترے سرفروشوں میں ہے کون ایسا
جسے دل سے شوق شہادت نہیں ہے

تغافل کا شکوہ کروں ان سے کیونکر
وہ کہہ دیں گے تو بے مروت نہیں ہے

وہ کہتے ہیں شوخی سے ہم دل ربا ہیں
ہمیں دل نوازی کی عادت نہیں ہے

شہیدان غم ہیں سبک روح کیا کیا
کہ اس دل پہ بار ندامت نہیں ہے

نمونہ ہے تکمیل حسن سخن کا
گہر بارئ طبع حسرتؔ نہیں ہے