Skip to content

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا
شوق کی بے قراریاں نہ گئیں

دن کی صحرا نوردیاں نہ چھٹیں
شب کی اختر شماریاں نہ گئیں

ہوش یاں سد راہ علم رہا
عقل کی ہرزہکاریاں نہ گئیں

تھے جو ہمرنگ ناز ان کے ستم
دل کی امیدواریاں نہ گئیں

حسن جب تک رہا نظارہ فروش
صبر کی شرمساریاں نہ گئیں

طرز مومنؔ میں مرحبا حسرتؔ
تیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں