Skip to content

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں
آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں

بے زبانی ترجمان شوق بے حد ہو تو ہو
ورنہ پیش یار کام آتی ہیں تقریریں کہیں

مٹ رہی ہیں دل سے یادیں روزگار عیش کی
اب نظر کاہے کو آئیں گی یہ تصویریں کہیں

التفات یار تھا اک خواب آغاز وفا
سچ ہوا کرتی ہیں ان خوابوں کی تعبیریں کہیں

تیری بے صبری ہے حسرتؔ خامکاری کی دلیل
گریۂ عشاق میں ہوتی ہیں تاثیریں کہیں