Skip to content

لطف کی ان سے التجا نہ کریں

لطف کی ان سے التجا نہ کریں
ہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریں

مل رہے گا جو ان سے ملنا ہے
لب کو شرمندۂ دعا نہ کریں

صبر مشکل ہے آرزو بے کار
کیا کریں عاشقی میں کیا نہ کریں

مسلک عشق میں ہے فکر حرام
دل کو تدبیرآشنا نہ کریں

بھول ہی جائیں ہم کو یہ تو نہ ہو
لوگ میرے لیے دعا نہ کریں

مرضئ یار کے خلاف نہ ہو
کون کہتا ہے وہ جفا نہ کریں

شوق ان کا سو مٹ چکا حسرتؔ
کیا کریں ہم اگر وفا نہ کریں