Skip to content

اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں

اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں
بگڑے ہیں اسی کفر میں ایمان ہزاروں

دنیا ہے کہ ان کے رخ و گیسو پہ مٹی ہے
حیران ہزاروں ہیں پریشان ہزاروں

تنہائی میں بھی تیرے تصور کی بدولت
دل بستگئ غم کے ہیں سامان ہزاروں

اے شوق تری پستئ ہمت کا برا ہو
مشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہزاروں

آنکھوں نے تجھے دیکھ لیا اب انہیں کیا غم
حالانکہ ابھی دل کو ہیں ارمان ہزاروں

چھانے ہیں ترے عشق میں آشفتہ سری نے
دنیائے مصیبت کے بیابان ہزاروں

اک بار تھا سر گردن حسرتؔ پہ رہیں گے
قاتل تری شمشیر کے احسان ہزاروں