Skip to content

کیسے چھپاؤں راز غم دیدۂ تر کو کیا کروں

کیسے چھپاؤں راز غم دیدۂ تر کو کیا کروں
دل کی تپش کو کیا کروں سوز جگر کو کیا کروں

شورش عاشقی کہاں اور میری سادگی کہاں
حسن کو تیرے کیا کہوں اپنی نظر کو کیا کروں

غم کا نہ دل میں ہو گزر وصل کی شب ہو یوں بسر
سب یہ قبول ہے مگر خوف سحر کو کیا کروں

حال میرا تھا جب بتر تب نہ ہوئی تمہیں خبر
بعد میرے ہوا اثر اب میں اثر کو کیا کروں