Skip to content

ختم کر دوں جھِجک، نڈر کر دوں

ختم کر دوں جھِجک، نڈر کر دوں
آ، تجھے چوم کر اَمر کر دوں

سرخ یاقوت سے بنی لڑکی!
میں تجھے نیلگوں اگر کر دوں

کتنی عجلت میں ہم سفر ہے مرا
ساز و سامان مختصر کر دوں

صفِ دشمن میں سب نہتے ہیں
اپنی تلوار اِدھر اُدھر کر دوں

شعر میں نام لُوں ترا، اور تجھے
ایک لمحے میں نام ور کر دوں