Skip to content

حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے

حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے
دل کی جانب نظر ہے کیا کہئے

پھر وہی رہ گزر ہے کیا کہئے
زندگی راہ پر ہے کیا کہئے

حسن خود پردہ ور ہے کیا کہئے
یہ ہماری نظر ہے کیا کہئے

آہ تو بے اثر تھی برسوں سے
نغمہ بھی بے اثر ہے کیا کہئے

حسن ہے اب نہ حسن کے جلوے
اب نظر ہی نظر ہے کیا کہئے

آج بھی ہے مجازؔ خاک نشیں
اور نظر عرش پر ہے کیا کہئے