Skip to content

بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا

بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا
تبسم کو تبسم کیوں نظر کو کیوں نظر جانا

خرد والوں سے حسن و عشق کی تنقید کیا ہوگی
نہ افسون نگہ سمجھا نہ انداز نظر جانا

مئے گلفام بھی ہے ساز عشرت بھی ہے ساقی بھی
بہت مشکل ہے آشوب حقیقت سے گزر جانا

غم دوراں میں گزری جس قدر گزری جہاں گزری
اور اس پر لطف یہ ہے زندگی کو مختصر جانا