Skip to content

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے
اور صبر آزما بھی ہوتی ہے

روح ہوتی ہے کیف پرور بھی
اور درد آشنا بھی ہوتی ہے

حسن کو کر نہ دے یہ شرمندہ
عشق سے یہ خطا بھی ہوتی ہے

بن گئی رسم بادہ خواری بھی
یہ نماز اب قضا بھی ہوتی ہے

جس کو کہتے ہیں نالۂ برہم
ساز میں وہ صدا بھی ہوتی ہے

کیا بتا دو مجازؔ کی دنیا
کچھ حقیقت نما بھی ہوتی ہے