Skip to content

پرتو ساغر صہبا کیا تھا

پرتو ساغر صہبا کیا تھا
رات اک حشر سا برپا کیا تھا

کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی
میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا

حسن کی آنکھ بھی نمناک ہوئی
عشق کو آپ نے سمجھا کیا تھا

عشق نے آنکھ جھکا لی ورنہ
حسن اور حسن کا پردا کیا تھا

کیوں مجازؔ آپ نے ساغر توڑا
آج یہ شہر میں چرچا کیا تھا