Skip to content

آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے

آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے
دل کی گہرائیوں سے نکلا ہے

میری نظروں میں حشر بھی کیا ہے
میں نے ان کا جلال دیکھا ہے

جلوۂ طور خواب موسیٰ ہے
کس نے دیکھا ہے کس کو دیکھا ہے

ہائے انجام اس سفینے کا
ناخدا نے جسے ڈبویا ہے

آہ کیا دل میں اب لہو بھی نہیں
آج اشکوں کا رنگ پھیکا ہے

جب بھی آنکھیں ملیں ان آنکھوں سے
دل نے دل کا مزاج پوچھا ہے

وہ جوانی کہ تھی حریف طرب
آج برباد جام و صہبا ہے

کون اٹھ کر چلا مقابل سے
جس طرف دیکھیے اندھیرا ہے

پھر مری آنکھ ہو گئی نمناک
پھر کسی نے مزاج پوچھا ہے

سچ تو یہ ہے مجازؔ کی دنیا
حسن اور عشق کے سوا کیا ہے