Skip to content

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
ہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ

روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے
ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ

آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ
ملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ

اٹھیں گے ابھی اور بھی طوفاں مرے دل سے
دیکھوں گا ابھی عشق کے خواب اور زیادہ

ٹپکے گا لہو اور مرے دیدۂ تر سے
دھڑکے گا دل خانۂ خراب اور زیادہ

ہوگی مری باتوں سے انہیں اور بھی حیرت
آئے گا انہیں مجھ سے حجاب اور زیادہ

اسے مطرب بیباک کوئی اور بھی نغمہ
اے ساقیٔ فیاض شراب اور زیادہ