Skip to content

کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں

کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں
یہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میں

تمہیں تو ہو جسے کہتی ہے ناخدا دنیا
بچا سکو تو بچا لو کہ ڈوبتا ہوں میں

یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ
تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں

اس اک حجاب پہ سو بے حجابیاں صدقے
جہاں سے چاہتا ہوں تم کو دیکھتا ہوں میں

بتانے والے وہیں پر بتاتے ہیں منزل
ہزار بار جہاں سے گزر چکا ہوں میں

کبھی یہ زعم کہ تو مجھ سے چھپ نہیں سکتا
کبھی یہ وہم کہ خود بھی چھپا ہوا ہوں میں

مجھے سنے نہ کوئی مست بادۂ عشرت
مجازؔ ٹوٹے ہوئے دل کی اک صدا ہوں میں