Skip to content

جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے

جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
مگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے

بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا
تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے

بہت کچھ اور بھی ہے اس جہاں میں
یہ دنیا محض غم ہی غم نہیں ہے

تقاضے کیوں کروں پیہم نہ ساقی
کسے یاں فکر بیش و کم نہیں ہے

ادھر مشکوک ہے میری صداقت
ادھر بھی بد گمانی کم نہیں ہے

مری بربادیوں کا ہم نشینو
تمہیں کیا خود مجھے بھی غم نہیں ہے

ابھی بزم طرب سے کیا اٹھوں میں
ابھی تو آنکھ بھی پر نم نہیں ہے

بہ ایں سیل غم و سیل حوادث
مرا سر ہے کہ اب بھی خم نہیں ہے

مجازؔ اک بادہ کش تو ہے یقیناً
جو ہم سنتے تھے وہ عالم نہیں ہے