Skip to content

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
آرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

چاہتا تھا بہت سی باتوں کو
مگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں

جرأت عرض حال کیا ہوتی
نظر لطف اس نے کی ہی نہیں

اس مصیبت میں دل سے کیا کہتا
کوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں

آپ کیا جانیں قدر یا اللہ
جب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں

شرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیا
میری کوئی سوسائٹی ہی نہیں

پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیسا
ہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں